سرینگر (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت ایک طرف جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کے دعوے کر رہا ہے اور 6G ٹیکنالوجی کی جانب بڑھ رہا ہے، جبکہ دوسری طرف مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں لوگ آج بھی بنیادی موبائل رابطے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کا علاقہ سنگرونی بھی ناقص موبائل نیٹ ورک کی وجہ سے شدید مشکلات سے دوچار ہے۔
علاقے میں قابلِ اعتماد موبائل سروس دستیاب نہ ہونے کے باعث مقامی باشندوں کو فون کال کرنے اور انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیے کئی کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔ ضلع پلوامہ کے صدر مقام سے تقریبا 19 کلومیٹر دور واقع سنگرونی قدرتی حسن اور سیاحت کے وسیع امکانات رکھنے کے باوجود بنیادی مواصلاتی سہولیات سے محروم ہے۔
موبائل نیٹ ورک کی عدم دستیابی کے باعث طلبہ آن لائن تعلیمی وسائل سے استفادہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ مقامی رہائشی شبیر احمد کوہلی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سنگرونی ناقص موبائل نیٹ ورک کی وجہ سے ڈیجیٹل دنیا سے کٹا ہوا ہے۔
قبائلی سماجی کارکن دانش علی نے بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ سے بارہا رجوع کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوا۔
مقامی باشندوں نے قابض انتظامیہ اور متعلقہ ٹیلی کام کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ سنگرونی میں موبائل نیٹ ورک کی ناقص سہولیات کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ نیٹ ورک انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔


