بین الاقوامی ڈیسک۔ بھارت کی ریاستوں اتر پردیش اور بہار میں ایک بہتر سالہ مسلمان صحافی و سماجی کارکن اور پچیس سالہ مسلمان نوجوان پولیس کی حراست میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔
کشمیری میڈیا سروس کے مطابق بہتر سالہ صحافی اور سماجی کارکن پرویز پرواز گورکھپور کی ڈسٹرکٹ جیل میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے دو ہزار سات میں بی جے پی رہنما اور موجودہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ایک تقریر کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
وہ ایک ایسے مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے جسے من گھڑت قرار دیا گیا ہے۔ پرویز پرواز اس وقت توجہ کا مرکز بنے جب انہوں نے ستائیس جنوری دو ہزار سات کو ایک عوامی اجتماع میں آدتیہ ناتھ کی اشتعال انگیز تقریر ریکارڈ کی تھی۔
اس واقعے کے بعد شہر میں کشیدگی پھیل گئی تھی اور بعد میں ہونے والے تشدد میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بی جے پی کے زیر اقتدار ایک اور ریاست بہار میں پچیس سالہ مسلمان نوجوان دلشاد انصاری ضلع چمپارن میں پولیس حراست کے دوران جاں بحق ہو گیا ہے۔
دلشاد کے اہل خانہ نے اس کی موت کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کی اہلیہ نگمہ خاتون نے بتایا کہ پولیس کی ایک ٹیم ان کے گھر آئی اور دلشاد کو حراست میں لیا۔
بعد میں اہل خانہ کو ہسپتال پہنچنے کے لیے کہا گیا جہاں وہ مردہ حالت میں پائے گئے۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ دلشاد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس کی موت سر پر چوٹ لگنے سے ہوئی۔
رپورٹس کے مطابق اس واقعے کے بعد دو سب انسپکٹروں سمیت چھ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔


