واشنگٹن: رائٹرز اور اپسوس کے تازہ سروے کے مطابق 33 فیصد امریکیوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی کارکردگی کی منظوری دی، جبکہ 64 فیصد نے اسے مسترد کردیا۔ رواں ماہ کے پہلے سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت 35 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
سروے کے مطابق 80 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ایران میں امریکی فوجی مداخلت طویل عرصے تک جاری رہے گی۔ ڈیموکریٹس میں یہ رائے رکھنے والوں کی شرح 87 فیصد جبکہ ریپبلکنز میں 71 فیصد ہے۔ صرف 16 فیصد افراد نے کہا کہ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہونے کا امکان ہے۔
سروے میں ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کی ایک بڑی وجہ ایران کے خلاف جنگ اور اس کے نتیجے میں تیل و پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ قرار دیا گیا ہے۔ صرف ہر پانچ میں سے ایک امریکی نے ایران کے خلاف جنگ کو قابل جواز قرار دیا، جبکہ ریپبلکنز میں بھی تقریباً نصف افراد نے جنگ کو درست فیصلہ سمجھا۔
ایران جنگ اور پٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکنز کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان میں ریپبلکن اکثریت ختم کرنے کے ساتھ ساتھ سینیٹ میں بھی کامیابی کے امکانات دیکھ رہے ہیں۔
معیشت کے معاملے میں بھی ڈیموکریٹس نے برتری حاصل کرلی ہے۔ تازہ سروے میں 38 فیصد ووٹرز نے کہا کہ ڈیموکریٹس معیشت بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں، جبکہ 35 فیصد نے ریپبلکنز کو ترجیح دی۔ امیگریشن کے معاملے میں ریپبلکنز کو معمولی برتری حاصل ہے، تاہم ٹرمپ کی صدارت کے دوران یہ فرق کم ترین سطح پر آگیا ہے۔
سروے کے مطابق 40 فیصد ووٹرز نے امیگریشن سے متعلق ریپبلکنز کی پالیسی کو بہتر قرار دیا، جبکہ 38 فیصد نے ڈیموکریٹس کی پالیسی کو ترجیح دی۔ جنوری 2025 میں اس معاملے پر ریپبلکنز کو 26 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔


