سابق صدر جوزف کبالا نے 18 اکتوبر کو مشرقی کانگو کے ایک بغاوتی گروپ میں شمولیت اختیار کی۔ اس اقدام سے علاقے میں جاری جنگ اور ممکنہ امن مذاکرات پر نئی تشویش پیدا ہوئی۔
کبالا 2019 تک ڈیموکریٹک ریپبلک آف کونگو کے صدر رہ چکے ہیں۔ ان کی سیاسی واپسی پر متعدد تجزیہ کاروں نے اس کی ممکنہ اثرات پر سوال اٹھائے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ابھی تک اس شمولیت کی تفصیلات واضح نہیں ہیں۔ بین الاقوامی ماہرین اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ یہ قدم کس حد تک جنگ کو بڑھائے گا۔


