لاہور (بیورو رپورٹ) موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اثرات اب حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں 2020 کے دوران قبل از وقت پیدائش کی شرح تقریباً 14.3 فیصد تھی۔
قبل از وقت پیدائش سے مراد حمل کے 37 مکمل ہفتوں سے پہلے بچے کی پیدائش ہے۔
اقوام متحدہ کی نئی تحقیق کے مطابق درجہ حرارت میں اضافہ سے قبل از وقت پیدائش میں 5 فیصد جبکہ حمل کے دوران خواتین میں شوگر 7 فیصد تک بڑھ رہی ہے۔ اسسٹنٹ کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر صدف ذوالفقار نے کہا کہ پاکستان میں پہلے ہی قبل از وقت پیدائش کی شرح تشویش ناک ہے۔
ایسے بچوں کی مناسب نگہداشت کے لیے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹس اور خصوصی نرسریز کی دستیابی بھی اہم چیلنج ہے۔
ڈاکٹر صدف ذوالفقار کے مطابق شدید گرمی کے دوران حاملہ خواتین میں پانی کی کمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان میں خواتین پہلے ہی بعض اوقات ضرورت کے مطابق پانی نہیں پیتیں، جبکہ ہیٹ ویو کے دوران یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
پانی کی کمی اور جسمانی دباؤ حمل کی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کا وزن عموما کم ہو سکتا ہے اور ان میں انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صدف ذوالفقار کا کہنا تھا کہ ایسے بچوں کو جسمانی درجہ حرارت برقرار رکھنے اور سانس لینے میں بھی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اس کے باعث انہیں نوزائیدہ بچوں کی خصوصی نگہداشت اور بعض صورتوں میں نیونیٹل آئی سی یو میں علاج کی ضرورت پڑتی ہے۔


