اسلام آباد (این این آئی) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بامقصد بات چیت کیلئے تیار ہے، تاہم تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، اب اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ تعمیری مذاکرات کیلئے کتنی جلد تیار ہوتی ہے۔
جمعرات کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی اور جمہوریت کو تقویت دینے کیلئے معاملات بیٹھ کر طے کرنا ہوں گے۔ انہوں نے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے فی لیٹر کمی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عام آدمی کو جہاں سے بھی ممکن ہوگا، بچت کرکے ریلیف دے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ خلیج اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث نہ صرف پٹرولیم کی سپلائی میں مشکلات ہیں بلکہ کئی ممالک کی ریفائنریز اور گیس پلانٹس بھی بند ہیں، پورا خطہ مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے اور پاکستان بھی اس سے متاثر ہے کیونکہ وہ توانائی کا بڑا خریدار ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے جنگ شروع ہوتے ہی پی ایس ڈی پی میں کٹ لگا کر 128 ارب روپے فراہم کیے تاکہ عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے بچایا جا سکے۔ حکومت نے عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے فوری اقدامات کیے جبکہ صوبوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ آئندہ دنوں میں صورتحال بہتر ہوگی۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی کاوشیں رنگ لائیں گی، حکومت کشیدگی میں کمی کیلئے کوشش کر رہی ہے۔ حکومت نے اڑھائی سال کے دوران معیشت کی بہتری کیلئے جو اقدامات کیے ہیں، ان کے اثرات بتدریج سامنے آ رہے ہیں، تاہم امن کی صورتحال کا معمول پر آنا اس کیلئے ضروری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ روز ریٹیلرز کیلئے ایپ کا آغاز کیا ہے، امید ہے کہ تاجر برادری، جن کی مشاورت سے یہ اقدامات کیے گئے ہیں، اس سے مطمئن ہوگی۔ انہوں نے ایف بی آر کو واضح ہدایات دیں کہ تاجروں کی مشاورت سے منصوبہ بندی کی جائے اور اگر کسی نے انہیں تنگ کرنے کی کوشش کی تو وہ سزا کیلئے تیار رہے۔
انہوں نے وزیر خزانہ، وزیر مملکت برائے خزانہ اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت پہلی بار تاجروں کیلئے ایک اچھی اسکیم لے کر آئی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی کی برآمدات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور جولائی 2026 میں اس میں 18 فیصد اضافہ ہوا، جو بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دی۔
انہوں نے کہا کہ گوگل کا ایک وفد پاکستان آیا ہوا ہے اور دو روز قبل اس سے ملاقات ہوئی تھی۔ پاکستان میں گوگل کے دفتر کا افتتاح ہو چکا ہے۔ حکومت ہر شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن کیلئے اقدامات کر رہی ہے اور گورننس کا پورا نظام ڈیجیٹل ہونا چاہئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے قومی اسمبلی اور کابینہ میں بھی اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے اور ایک بار پھر اس فورم سے اپوزیشن کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئے اور بیٹھ کر بات کرے۔ معاملات بات چیت کے ذریعے طے کیے جائیں تاکہ پاکستان کی معاشی ترقی اور جمہوریت کو تقویت دی جا سکے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، اب اپوزیشن پر منحصر ہے کہ وہ کتنی جلد تعمیری بات چیت کیلئے تیار ہوتی ہے۔


