اسلام آباد میں منگل ۲۰ اکتوبر ۲۰۲۶ کو جدید اور ترقی دوست ٹیکس نظام کے لیے اصلاحات پر ورکشاپ شروع ہوئی۔ وزارتِ خزانہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی دو روزہ ورکشاپ ۲۱ اکتوبر تک جاری رہے گی۔
افتتاحی خطاب میں وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ٹیکس پالیسی کو صرف محصولات کے اہداف کے بجائے معاشی سرگرمیوں اور قدر میں اضافے سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی، ٹیکس نیٹ میں وسعت اور سرمایہ کاروں کے لیے مستقل پالیسیوں پر زور دیا۔
آئی ایم ایف کے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد آزور نے کم ٹیکس دینے والے شعبوں کو مناسب طور پر ٹیکس نیٹ میں لانے، مراعات معقول بنانے اور مختلف طبقات پر غیر متناسب بوجھ کم کرنے کی ضرورت بیان کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس پالیسی کے ساتھ وصولیوں کے انتظامی نظام کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔
ورکشاپ میں وفاق اور صوبوں کے ٹیکس نظام، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکس دہندگان کے اعتماد پر گفتگو ہوگی۔ یہ اصلاحاتی تجاویز اور پالیسی بیانات ہیں؛ اس خبر میں کسی نئے ٹیکس کے نافذ ہونے یا شرح تبدیل ہونے کا اعلان شامل نہیں۔



