واشنگٹن (صورتِ حال، انٹرنیشنل ڈیسک) این این آئی کے مطابق شی جن پنگ کا امریکی دورہ تین روزہ ہے اور اس کے آغاز پر وہ امریکا پہنچ گئے، جہاں جوائنٹ بیس اینڈریوز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے چینی صدر اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کا استقبال کیا۔
رپورٹ کے مطابق رن وے پر 100 فٹ طویل ریڈ کارپٹ بچھایا گیا، توپوں کی سلامی دی گئی اور امریکی فضائیہ کے دو بی-1 بمبار طیاروں نے فضائی مظاہرہ کیا۔ دونوں رہنماؤں اور ان کی اہلیاؤں نے مصافحہ اور مختصر گفتگو کی۔
استقبالیہ میں امریکی اور چینی پرچموں کے ساتھ تین رسمی دستے تعینات تھے، جبکہ امریکی فضائیہ کے بینڈ نے دونوں ممالک کے قومی ترانے پیش کیے۔ امریکی فوج کی مختلف سروسز کے پلاٹونز بھی تقریب میں شریک تھے۔
این این آئی کے مطابق شی جن پنگ کا امریکی دورہ کے دوران ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ٹیرف، مصنوعی ذہانت، ایران جنگ اور تائیوان سمیت عالمی اور دوطرفہ امور پر بات چیت متوقع ہے۔ امریکا اور چین کے درمیان گزشتہ سال طے پانے والا تجارتی معاہدہ نومبر میں ختم ہونے والا ہے، اس لیے تجارتی معاملات بھی مذاکرات کا اہم موضوع رہیں گے۔
استقبالیہ کے بعد ٹرمپ شی جن پنگ کو ان کی گاڑی تک چھوڑنے گئے، جہاں دونوں رہنماؤں نے مختصر گفتگو کی۔ بعد ازاں شی جن پنگ واشنگٹن ڈی سی روانہ ہوگئے، جبکہ ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ وائٹ ہاؤس واپس چلے گئے۔
دورے کے دوران بند کمرے میں مذاکرات، سرکاری عشائیے اور دیگر تقریبات بھی متوقع ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس اور امریکی فوج نے پروگرام کی حتمی ترتیب کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔


