اسلام آباد (بیوروچیف) سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا جائے کہ پاکستان پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
منگل کو سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ وزیر پیٹرولیم نے بتایا تھا کہ ایران گیس پائپ لائن میں نقصان ہے، اس لیے اسے نہیں بنایا جائے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر منصوبہ قابل عمل نہیں تھا تو صدر سے اس پر دستخط کیوں کرائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر 20 سال قبل گیس پائپ لائن بچھ جاتی تو آج صنعت چل رہی ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بیل آؤٹ کیا، جب وہ ایران جنگ میں پھنسے ہوئے تھے۔ پاکستان کو چاہیے کہ ایران پائپ لائن کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہے کہ اس پر پابندی نہ لگائی جائے۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاک ایران پائپ لائن منصوبے پر ایران نے کافی کام کرلیا ہے، تاہم پابندی کی وجہ سے پاکستان کی طرف سے پیشرفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ایران ثالثی عدالت بھی گیا ہوا ہے اور دونوں ممالک کے لیے قابل قبول حل پر کام کیا جا رہا ہے۔
علی پرویز ملک کے مطابق وزیراعظم نے اس معاملے پر ایک اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کی ہے، جس میں اسحاق ڈار، اٹارنی جنرل اور وہ خود شامل ہیں۔ وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ پائپ لائن کی قانونی چارہ جوئی کا مسئلہ سر پر لٹکا ہوا ہے، اسے دیکھ کر حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔


