بلوچستان کے علاقے سرانان میں فائرنگ کے واقعے میں پھلوں کی تجارت سے وابستہ پانچ غیر مقامی مزدور جاں بحق ہوگئے۔ حکام کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ مقتول مزدور دوسرے صوبے سے تعلق رکھتے تھے اور پھلوں کی تجارت کے سلسلے میں سرانان آئے تھے۔
حکام نے واقعے کا الزام فتنۃ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی سرگرمیوں اور روزگار سے متعلق افراد کو نشانہ بنا کر بلوچستان میں امن و معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سرانان میں پانچ مزدوروں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے مقتولین کے لواحقین سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ محنت کشوں کو نشانہ بنانا درندگی ہے اور مزدوروں پر حملہ بلوچستان میں تعمیر و ترقی اور روزگار کے مواقع روکنے کی سازش ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ واقعے میں ملوث دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔


