فائل فوٹو
اسلام آباد — دی نیوز میں انصار عباسی کی 28 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، منصوبہ بندی کمیشن کے قومی آبی تحفظ کے لائحہ عمل میں آبی ذخائر، سیلاب سے تحفظ اور نہروں کی بہتری کے لیے آئندہ دس سال میں تقریباً 18 ارب ڈالر کی وفاقی مالی ضرورت کا تخمینہ دیا گیا ہے۔ یہ مطلوبہ مالی وسائل کا تخمینہ ہے؛ اس خبر میں پوری رقم کی منظوری، فراہمی یا خرچ ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
اڑان پاکستان کے تحت لائحہ عمل میں 2029 تک پانی کے استعمال کی کارکردگی 40 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد اور کھیتوں تک پانی کی دستیابی 5 کروڑ 83 لاکھ سے بڑھا کر 7 کروڑ 90 لاکھ ایکڑ فٹ کرنے کے اہداف شامل ہیں۔ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ایک کروڑ 53 لاکھ 18 ہزار سے بڑھا کر 2 کروڑ 35 لاکھ 40 ہزار ایکڑ فٹ کرنے کا ہدف بھی دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈرپ اور اسپرنکلر آبپاشی، زیرِ زمین پانی کے پائیدار استعمال، سیلاب کی پیشگی اطلاع اور کم از کم 25 فیصد شہری گندے پانی کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ ان اہداف کے لیے مربوط عمل درآمد اور پانی کے انتظام میں اصلاحات ضروری قرار دی گئی ہیں۔


