
لاہور، قصور، بہاولپور، جھنگ: پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے سیلاب کا خطرہ ٹل گیا، قصور کے مقام پر تاریخ کا سب سے بڑا سیلابی ریلا گزر گیا، ملتان میں آج بڑا ریلا داخل ہوگا، پاکپتن، احمد پور شرقیہ، چشتیاں میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے کئی بستیاں زیر آب آ گئیں اور رابطے منقطع ہو گئے۔
راوی، چناب اور ستلج کے بپھرنے سے پنجاب کے 1769 موضع جات زیر آب ہیں اور پندرہ لاکھ کے قریب افراد سیلاب سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 28 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
سات لاکھ کیوسک کا ریلا ملتان پہنچنے کا امکان، شگاف ڈالنا پڑے گا
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے بتایا ہے کہ گنڈا سنگھ پر اس وقت پانی کا بہاؤ تین لاکھ تین ہزار کیوسک ہے، جس کے باعث فوج اور ضلعی انتظامیہ نے رات کے دوران 20 دیہات کو خالی کروایا، ہیڈ سلیمانکی پر ایک لاکھ سے زائد کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے جبکہ اگلے 24 گھنٹے میں ہیڈ اسلام کے لیے خطرات لاحق ہیں۔
ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ پچہتر ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے اور قادر آباد برج پر پانی کے بہاؤ میں کمی آئی ہے، ہیڈ تریمو پر کل صبح چھ سے نو بجے جھنگ کے مقام پر نو لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے۔
راوی میں دو لاکھ بیس ہزار کیوسک کا ریلا پہلے ہی گزر چکا ہے اور اس وقت ایک لاکھ انتیس ہزار کیوسک کا ریلا موجود ہے، بلوکی میں دو لاکھ گیارہ ہزار کیوسک اور ننکانہ صاحب سے بیس ہزار کیوسک پانی شامل ہو چکا ہے۔
ہیڈ محمد والا پر سات لاکھ کیوسک کا ریلا ملتان تک پہنچے گا، جہاں شگاف ڈالنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔


