لاہور: شدید گرمی اور حبس کے دوران لاہور سمیت پنجاب بھر میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق لیسکو ریجن میں شام ہوتے ہی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ مزید شدت اختیار کر لیتا ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں تکنیکی خرابیوں کے باعث بھی طویل دورانیے تک بجلی معطل رہتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایل این جی کی عدم دستیابی کے باعث بجلی کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے، جبکہ مجموعی پیداوار میں کمی اور لیسکو کے خستہ حال ڈسٹری بیوشن سسٹم کو بھی لوڈشیڈنگ کی بڑی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔ مختلف علاقوں میں لوڈ مینجمنٹ کے نام پر وقفے وقفے سے بجلی بند کی جا رہی ہے۔ بعض علاقوں میں ہر گھنٹے کے بعد ایک گھنٹے تک غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، جبکہ ہائی لاسز فیڈرز پر 2 سے 6 گھنٹے تک بجلی بند رکھنے کی اطلاعات ہیں۔
رات کے اوقات میں بار بار ٹرپنگ کے باعث شہریوں کی نیندیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بجلی بحال ہونے کے بعد بعض علاقوں میں ٹرانسفارمرز کے جمپر اترنے اور دیگر تکنیکی خرابیوں کی شکایات سامنے آتی ہیں، جس کے باعث صارفین کو مزید کئی گھنٹے بجلی سے محروم رہنا پڑتا ہے۔ گنجان آباد علاقوں میں ٹرانسفارمرز خراب ہونے کی شکایات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق دن کے اوقات میں سولر سسٹمز کے استعمال کے باعث لیسکو کی بجلی کی طلب تقریباً 3500 سے 3700 میگاواٹ رہتی ہے، تاہم رات کو سولر سسٹمز بند ہونے کے بعد طلب تقریباً 5200 میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے۔ طلب اور رسد میں فرق کے باعث رات کے اوقات میں لوڈ مینجمنٹ کا دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس سے مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش میں اضافہ ہوتا ہے۔
پنجاب کے مختلف شہروں، جن میں شیخوپورہ، فیصل آباد اور سیالکوٹ شامل ہیں، میں بھی وقفے وقفے سے طویل لوڈشیڈنگ جاری رہنے کی اطلاعات ہیں، جس سے شہری پریشانی میں مبتلا ہیں اور کاروبار زندگی متاثر ہو رہا ہے۔
دوسری جانب پشاور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف شہریوں نے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے تہکال کے مقام پر یونیورسٹی روڈ بند کر دیا اور بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نہ رات کو بجلی ہوتی ہے اور نہ دن کو، جس کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔


