کراچی (ٹیکنالوجی ڈیسک) موبائل فون میں جاسوسی سافٹ ویئر کے ذریعے ذاتی معلومات اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ سائبر حملہ آور بعض اوقات کسی مشکوک رابطے پر کلک کیے بغیر بھی فون کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی میگزین وائرڈ کے مطابق جاسوسی سافٹ ویئر پیغامات پڑھنے اور بینکنگ ایپلی کیشنز تک رسائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ صحافیوں، سماجی کارکنوں، سرکاری عہدیداروں اور کاروباری شخصیات کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
موبائل فون کے نظام اور ایپلی کیشنز کو باقاعدگی سے جدید بنائیں اور خودکار تازہ کاری فعال رکھیں۔ نامعلوم افراد کے بھیجے گئے مشکوک روابط نہ کھولیں اور سرکاری ایپ اسٹور استعمال کریں۔
سائبر حملوں کے خطرات کم کرنے کے لیے فون میں دستیاب حفاظتی سہولیات استعمال کریں۔ آئی فون کا لاک ڈاؤن موڈ اور اینڈرائیڈ کی حفاظتی خصوصیات خطرات سے بچاؤ میں مدد دیتی ہیں۔


