فائل فوٹو (اشاراتی): Hossein Zohrevand / Wikimedia Commons / CC BY 4.0 — https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Meeting_of_the_Foreign_Ministers_of_Iran_and_Oman_21_(Tasnim,_2025).jpg
بین الاقوامی ڈیسک۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ اور مختصر ہوسکتے ہیں۔
تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں جاری سفارتی کوششوں کے دوران ایران نے اپنا تازہ ترین امن منصوبہ پیش کردیا ہے۔ ایران اب امریکی ردعمل کا منتظر ہے اور توقع ہے کہ حالیہ مذاکرات کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔
ماضی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات میں کافی وقت لگا، تاہم اس مرتبہ حالات مختلف دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا سے مذاکرات میں پیش رفت کی امید موجود ہے، تاہم ایران اپنے دفاع اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔
امریکی صدر کی جانب سے ابتدائی طور پر ایرانی تجاویز مسترد کیے جانے کے باوجود مذاکرات کا جاری رہنا سفارتی رابطوں کے امکانات کی علامت ہے۔
دوسری جانب ایرانی قیادت نے امریکا کو عسکری طاقت کے استعمال سے متعلق سخت پیغامات بھی دیے ہیں۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، سپریم لیڈر اور عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران خطے میں امریکی فوجیوں کی موجودگی سے خوفزدہ نہیں۔
ایران کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔


