کوئٹہ: چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے کہا ہے کہ عوامی سہولت مراکز کے قیام سے انصاف کی فراہمی کا عمل تیز ہوگا اور سائلین و وکلا کو متعدد سہولیات ایک ہی مقام پر میسر آئیں گی۔ خواہش ہے کہ اس نوعیت کے مراکز بلوچستان سمیت ملک کے ہر ضلع اور تحصیل میں قائم کیے جائیں۔
وہ پیر کو بلوچستان ہائیکورٹ کوئٹہ کے احاطے میں نئے تعمیر شدہ عوامی سہولت مرکز کے افتتاح کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ چیف جسٹس پاکستان نے سہولت مرکز کا افتتاح کیا اور اس کے مختلف شعبوں کا دورہ کرکے سائلین اور وکلا کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔
جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس محمد کامران خان ملاخیل کو مرکز کے قیام پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نظام انصاف میں وسیع تر تبدیلی کی جانب اہم پیش رفت ہے، جس کا مقصد عدالت کے گرد گھومنے والے نظام کو شہری مرکزیت کے حامل نظام میں تبدیل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی نظام میں ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال انصاف کو مزید قابل رسائی، شفاف اور سائلین کی ضروریات کے مطابق بنانے کا ذریعہ ہے، تاہم ٹیکنالوجی اصلاحات کا متبادل نہیں۔ ٹیکنالوجی ذریعہ ہے جبکہ انصاف اصل مقصد ہے، اس لیے جدید سہولیات کے استعمال سے انصاف کی فراہمی تیز، مؤثر اور عوام دوست بنانا ہوگا۔
چیف جسٹس پاکستان نے بتایا کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے تحت ملک بھر میں عدالتی سہولیات کی فراہمی اور نظام انصاف کو عام شہری کے لیے مزید قابل رسائی بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مستقبل میں سہولت مراکز میں بلاتعطل شمسی توانائی، تیز رفتار انٹرنیٹ، خواتین سائلین کے لیے مخصوص باوقار جگہیں اور صاف پینے کے پانی سمیت بنیادی سہولیات کا بھی خیال رکھا جائے گا۔
انہوں نے عدلیہ اور وکلا کے درمیان تعاون کو عدالتی اصلاحات کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار اصلاحات کے لیے بینچ اور بار کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ان کے بقول عدلیہ عوام کی خدمت کے لیے قائم ہے اور نظام انصاف کو شہریوں کی ضروریات کے مطابق مسلسل بہتر بنانا ہوگا۔
جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے شہید ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور شہید ہونے والے 54 وکلا کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قانونی پیشے سے وابستہ شہدا کی قربانیاں ملک میں قانون کی حکمرانی کی اخلاقی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 8 اگست کے شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ ان کی جدوجہد کو جاری رکھنا اور عوام کو انصاف کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔ تقریب میں شہدا کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کہا کہ انصاف کی فراہمی یقینی بنانے اور سائلین کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے سہولت مرکز قائم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق چھ ماہ کی مدت میں قائم کیے گئے مرکز میں سائلین اور وکلا کو مختلف نوعیت کی قانونی معاونت اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ مقدمہ دائر کرنے، زیر سماعت کیس سے متعلق معلومات یا دیگر عدالتی معاونت کے خواہش مند افراد مرکز سے استفادہ کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سکیورٹی سے متعلق ایس او پیز کا مقصد عدلیہ، وکلا اور تمام متعلقہ افراد کا تحفظ یقینی بنانا ہے، اس لیے مرکز آنے والے افراد کے لیے نظم و ضبط اور مقررہ ضابطہ کار کی پابندی ضروری ہے۔ تقریب میں وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے ججز، اعلیٰ صوبائی حکام، پولیس حکام، بار عہدیداران اور وکلا نے شرکت کی۔


