لاہور ہائیکورٹ میں جھنگ میں جعلی رجسٹریوں کے مقدمے میں رجسٹری محرر تاج محمد اور رجسٹرار محبوب کی عبوری درخواستِ ضمانت پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ڈی جی اینٹی کرپشن سے مقدمات کی انکوائریز، تفتیش اور ڈیپوٹیشن پالیسی کا تفصیلی میکنزم طلب کر لیا۔
ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے اور بریفنگ دی۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ڈی جی اینٹی کرپشن سے استفسار کیا کہ آپ کیسز کی خود سربراہی کیوں نہیں کرتے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایک کیس عدالت کے سامنے آیا تو دو دن میں سب چیزیں ٹھیک ہو گئیں۔
ڈی جی اینٹی کرپشن نے عدالت کو بتایا کہ اس سال سولہ ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں جن میں سے نو ہزار سے زائد نمٹا دی گئیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اگر کوئی درخواست نمٹا دی جائے تو کیا اس پر دوبارہ کارروائی ہو سکتی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہاں پریکٹس ہے کہ پسندیدہ افسر کا انتظار کیا جاتا ہے اور اس کے آنے پر دوبارہ انکوائری کھل جاتی ہے۔
ڈی جی اینٹی کرپشن نے بتایا کہ انکوائری مکمل کرنے کے لیے چار ماہ کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جھنگ میں چھ جعلی رجسٹریاں درج کرنے کا مقدمہ دو ہزار بیس میں درج کیا گیا تھا۔ وکیل نے موقف اپنایا کہ چھ سال بعد اینٹی کرپشن نے دوبارہ درخواست گزار کو مقدمے میں نامزد کر دیا ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ڈی جی اینٹی کرپشن سے انکوائریز، تفتیش اور ڈیپوٹیشن پالیسی کے میکنزم کی مکمل تفصیلات طلب کر لیں۔


