وفاقی وزراء نے وزیراعظم شہبازشریف کی فیول ریلیف اسکیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پروگرام دو حصوں پر مشتمل ہے اور اس سے صرف مستحق افراد مستفید ہو سکیں گے۔ ان کے مطابق ٹو ویلر، تھری ویلر اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے پیٹرول پر ٹارگٹڈ ریلیف رکھا گیا ہے۔
وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ ٹو ویلر کے لیے 20 لٹر پیٹرول پر ریلیف دیا جائے گا، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 30 لٹر پیٹرول پر سبسڈی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام میں زیادہ سے زیادہ شہریوں کو شامل کرنے کے لیے توازن برقرار رکھا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں شہری اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سم سے سی این آئی سی نمبر بھیج کر رجسٹریشن کرائیں گے۔ اس کے بعد بائیک یا گاڑی کی رجسٹریشن، رجسٹریشن کی تاریخ اور اس صوبے یا شہر کی معلومات دینا ہوں گی جہاں گاڑی یا بائیک رجسٹرڈ ہے۔
شزہ فاطمہ خواجہ کے مطابق معلومات میں کمی ہونے کی صورت میں صارف کو پیغام کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل صرف ایک مرتبہ مکمل کرنا ہوگا، جبکہ پیٹرول لینے کے وقت 9771 پر TOK لکھ کر پیغام بھیجنا ہوگا۔
انہوں نے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ اپنا شناختی کارڈ نمبر یا دیگر ڈیٹا کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ ان کے مطابق حکومت نہ شہریوں سے ڈیٹا مانگے گی اور نہ ہی کسی قسم کے چارجز وصول کرے گی۔
وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ فیول ریلیف اسکیم وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر مستحق لوگوں کے لیے شروع کی گئی ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق رجسٹریشن کے لیے شفاف طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے اور متعلقہ وزارتیں و محکمے 24 گھنٹے دستیاب رہیں گے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ اس سہولت کے بعد کرایوں میں اضافہ نہ ہو۔ انہوں نے کفایت شعاری اقدامات، پاور سیکٹر اصلاحات اور آئل سپلائی کے باعث لوڈشیڈنگ کم سے کم رکھنے کے حکومتی اقدامات کا بھی ذکر کیا۔
پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضرورت کا 90 فیصد درآمد کرتا ہے اور حکومت نے پہلے بھی سبسڈی کے لیے وسائل کا انتظام کیا تھا۔ ان کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر اضافی وسائل جمع کیے گئے اور ٹارگٹڈ ریلیف کا انتظام ترتیب دیا گیا۔
عطاء اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر تنقید بھی کی اور پی ٹی آئی سے ماڈل منصوبوں کی نشاندہی کا مطالبہ کیا۔


