فائل فوٹو
بین الاقوامی ڈیسک
تہران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد جوہری ہتھیار بنانے اور عالمی جوہری معاہدے سے نکلنے کے مطالبات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سخت گیر حلقے موقف اختیار کررہے ہیں کہ سفارتی مذاکرات ملک کو بار بار ہونے والے حملوں سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔
ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی نے کہا ہے کہ نئے رہبرِاعلی جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر نیا مذہبی حکم جاری کرسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی حمایت بڑھ کر پچاس فیصد سے زیادہ ہوگئی ہے۔
تاہم، ایران کا سرکاری موقف اب تک یہی رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ابھی تک جوہری ہتھیار بنانے کا حتمی سرکاری فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔


