فائل فوٹو
اسلام آباد: وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے 24 بڑے شہروں میں 1700 سے زائد سائٹس پر فائیو جی خدمات شروع کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق سپیکٹرم، آپٹیکل فائبر اور دیگر ڈیجیٹل سہولتوں میں توسیع کا مقصد بڑھتی ہوئی رابطے کی ضروریات پوری کرنا ہے۔
جنوبی کوریا کے شہر سیول میں گلوبل ڈیجیٹل اینڈ اے آئی سمٹ کے دوسرے روز ایک اعلیٰ سطح کے پینل سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مارچ 2026 کی سپیکٹرم نیلامی میں 480 میگاہرٹز سپیکٹرم فراہم کیا گیا اور 50 کروڑ 90 لاکھ ڈالر حاصل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس سپیکٹرم 274 سے بڑھ کر 754 میگاہرٹز ہوگیا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق ملک میں 2 لاکھ 34 ہزار کلومیٹر سے زائد آپٹیکل فائبر بچھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں رابطے کے لیے پاکستان سپیس ایکٹویٹیز ریگولیٹری بورڈ اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سیٹلائٹ مواصلات اور لائسنسنگ کے فریم ورک کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ ان کے بقول سیٹلائٹ خدمات زمینی نیٹ ورکس کی معاون ہوں گی۔


