لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ کی ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کے سابق سربراہ جیفری ڈونلڈسن کو 2 کمسن لڑکیوں کے ساتھ زیادتی اور جنسی استحصال پر 15 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ رواں سال جون میں جیفری ڈونلڈسن کو 1985 سے 2008 کے دوران 2 کمسن لڑکیوں کے جنسی جرائم کے 18 الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔
عدالت نے ایک متاثرہ لڑکی کے ساتھ زیادتی پر 11 سال اور دوسری لڑکی کے کیس میں 4 سال قید کی سزا سنائی۔ جیفری ڈونلڈسن کو یہ سزائیں یکے بعد دیگرے بھگتنا ہوں گی۔
جج پال ریمزی نے مقدمے کو انتہائی پریشان کن قرار دیا اور کہا کہ ان جرائم نے متاثرین کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ جج نے کہا کہ ایک متاثرہ لڑکی احساسِ شرمندگی کے ساتھ بڑی ہوئی جبکہ دوسری اب بھی شدید ذہنی صدمے کا شکار ہے۔
مجرم نے متاثرین سے نہ معافی مانگی اور نہ ہی اپنے جرائم پر پشیمانی ظاہر کی۔ جولائی میں جیفری ڈونلڈسن سے برطانوی اعزازی خطاب بھی واپس لے لیا گیا تھا۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق جیفری ڈونلڈسن نے جیوری کے فیصلے کے باوجود اپنی بے گناہی پر اصرار کیا ہے۔ مقدمے میں ڈونلڈسن کا ایک متاثرہ لڑکی کو لکھا گیا خط بھی اہم ثبوت ثابت ہوا جس میں انہوں نے معافی طلب کی تھی۔
جیفری ڈونلڈسن کی اہلیہ ایلینر ڈونلڈسن کو بھی مقدمے کی کارروائی کے بعد ان جرائم میں معاونت کا قصور وار قرار دیا گیا ہے۔


