لاہور (صورتِ حال، انٹرنیشنل ڈیسک) سینئر دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون حملہ پاکستان کے لیے سپر ریڈ لائن ہے اور اسے چھونے کی کوشش خطے کو انتہائی خطرناک اور تباہ کن ماحول کی طرف لے جا سکتی ہے۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران مختلف گروہ سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ موجودہ صورتحال جنگ کے پھیلاؤ اور مزید کشیدگی کے امکانات پیدا کر رہی ہے۔ ان کے بقول، ایسے عناصر بھی واقعات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مختلف واقعات کہاں سے جنم لے رہے ہیں اور ان کے پیچھے کیا عوامل ہو سکتے ہیں، تاکہ پاکستان اس معاملے پر متحد موقف برقرار رکھ سکے۔ ان کے مطابق، پاکستان اپنے دفاع اور مقدس مقامات کے تحفظ کے معاملے میں متحد موقف رکھتا ہے۔
جنرل (ر) زاہد محمود نے کہا کہ مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون حملے کی کوشش ایسی خطرناک پیش رفت ہے جو تباہ کن ماحول کا باعث بن سکتی ہے اور بعد میں اس پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ باب المندب میں کشیدگی کے اثرات نہر سویز تک پہنچ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں بحیرہ احمر، بحیرہ روم اور یورپ بھی متاثر ہوں گے۔ ان کے بقول، اگر کشیدگی برقرار رہی تو برطانیہ کے جنگ میں شامل ہونے کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ اور ایران سنجیدگی سے تنازع حل کرنا چاہیں تو انہیں بالآخر مذاکرات اور مفاہمت کی طرف آنا ہو گا۔ ان کے مطابق، فوجی کارروائیاں، جنگ میں اضافہ اور ریاستی مفادات کا تحفظ بالآخر سفارت کاری اور سیاست کے ذریعے ہی آگے بڑھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ باہمی دفاعی معاہدے کا بنیادی ستون اجتماعی دفاع ہے اور دفاعی نظام ناکام ہونے کی صورت میں اجتماعی سلامتی کے تقاضے سامنے آتے ہیں۔ ان کے بقول، پاکستان سفارت کاری اور ثالثی کے ذریعے صورتحال کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ پاکستانی عسکری قیادت تمام متعلقہ فریقوں سے رابطے میں ہے۔


