اے آئی کی تیار کردہ علامتی تصویر
کراچی (صورتِ حال، کرائم رپورٹر) شارع فیصل پر کالونی گیٹ کے قریب فائرنگ سے زخمی ہونے والے شاہین فورس اہلکاروں کو اسپتال پہنچانے والے شہری کا بیان سامنے آگیا ہے۔ شہری نے اہلکاروں کے اسلحے اور گولیوں کے چیمبر میں پھنسنے کے معاملے پر محکمانہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔
شہری کے مطابق وہ ایئرپورٹ پر اپنے اہلخانہ کو چھوڑ کر واپس جا رہا تھا کہ اسے سڑک پر پولیس اہلکار گرے ہوئے دکھائی دیے۔ اس نے گاڑی روک کر ریورس کی تو دو ملزمان کو موٹرسائیکل پر فرار ہوتے دیکھا۔
اس کے بقول، ڈرائیور نے ملزمان کا پیچھا کرنے کا کہا، تاہم اس نے پہلے زخمی پولیس اہلکاروں کو اسپتال پہنچانے کو ترجیح دی۔ شہری نے بتایا کہ اس نے زخمی اہلکاروں کو اپنی گاڑی میں منتقل کیا اور ٹریفک پولیس کو بھی واقعے سے آگاہ کیا۔
شاہین فورس اہلکاروں کو اسپتال پہنچانے والے شہری نے آئی جی سندھ سے سوال کیا کہ اہلکاروں کا اسلحہ کیوں نہیں چلا اور گولیاں چیمبر میں کیوں پھنس گئیں۔ اس نے کہا کہ ایمونیشن کے ذمہ دار فرد اور اسلحے کی فراہمی کے معاملے کی محکمانہ انکوائری ہونی چاہیے۔
شہری نے مطالبہ کیا کہ شاہین فورس اور پولیس کے دیگر شعبوں میں فرائض انجام دینے والے اہلکاروں کو جدید و مؤثر اسلحہ اور ضروری حفاظتی سازوسامان فراہم کیا جائے۔ اس نے کہا کہ دیگر پولیس اہلکاروں کو دیے گئے اسلحے کی نوعیت اور مدتِ استعمال سے متعلق بھی معلومات ہونی چاہییں۔


