میانوالی (صورتِ حال، کرائم رپورٹر) این این آئی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی 27 ستمبر احتجاجی کال کے پیش نظر ضلع بھر میں کارکنوں کی پکڑ دھکڑ تیز کر دی گئی ہے اور درجنوں افراد کو دفعہ 144 کی مختلف شقوں کے تحت حراست میں لینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق منگل اور بدھ کی رات پولیس نے تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف چھاپوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک وکیل کے گھر پر چھاپے کے معاملے پر وکلا برادری کی 10 روزہ ہڑتال اور بعد میں صلح صفائی کے باوجود بعض وکلا کے گھروں پر دوبارہ چھاپے مارے گئے۔
این این آئی نے دعویٰ کیا کہ سرمت خیل، کمرمشانی میں سمیع اللہ خان ایڈووکیٹ اور ان کے دو بھائیوں کو حراست میں لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق عامر خان ایڈووکیٹ کے گھر سے شاہد مسعود خان، سعید احمد خان ایڈووکیٹ کی عدم موجودگی میں ان کے بھانجے، جبکہ حسنین ملک ایڈووکیٹ کے گھر سے ان کے بھائی وقاص احمد کو بھی گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 27 ستمبر احتجاجی کال سے قبل سی پیک کو عام آمدورفت کے لیے بند کرنے کی غرض سے ریت سے بھرے گٹے اور کنٹینرز وہاں پہنچا دیے گئے ہیں۔ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ضلع میانوالی کے داخلی راستے بند کر کے پولیس کی بھاری نفری تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔


