ٹورنٹو (بین الاقوامی ڈیسک). کینیڈین سیکیورٹی انٹیلی جنس کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے کینیڈا کے داخلی معاملات میں مداخلت کے شواہد ملے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کینیڈین انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کینیڈا کی کمیونٹیز اور جمہوری عمل میں مداخلت کر رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق خفیہ ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت آئندہ سال ہونے والے انتخابات میں مداخلت کی کوششیں کر رہا ہے۔ بھارتی حکام، سفارت کار اور انٹیلی جنس سروسز کے اہلکار مداخلت میں ملوث ہیں۔
بھارتی سفارت کاروں کی بے دخلی کے بعد اب پراکسی ایجنٹس اور تنظیمیں فعال ہو چکی ہیں۔ نئی دہلی بھارتی نژاد کینیڈین میڈیا اور سوشل میڈیا کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ کینیڈین سیکیورٹی انٹیلی جنس کے پاس بھارتی مداخلت کے تمام شواہد موجود ہیں۔ رکن لبرل پارٹی دانیال ابراہیم کا کہنا ہے کہ کینیڈا اور بھارت کے تعلقات اب پہلے جیسے نہیں رہے ہیں۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے گزشتہ ہفتے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت ملوث تھا اور اس کے پختہ شواہد موجود ہیں۔


