
فیصل آباد(بیوروچیف)الائیڈ ہسپتال ون میں نرسز کو ہراسمنٹ کا سامنا، ڈیوٹی روسٹر میں بات ماننے والی نرسز کو رات کی ڈیوٹی سے استثنی، انتظامیہ کارروائی سے گریزاں، شکائت کرنے والیوں کی لمبی انکوائریاں اور لاہور سے محکمہ ہیلتھ پنجاب کے اہلکاروں کے ذریعے غیر اخلاقی میسجز معمول بن گیا،سٹیٹ آف دی آرٹ کہلانے والے الائیڈ ہسپتال ون میں انتظامی بدنظمی اور اقربا پروری کا انکشاف ہوا ہے. ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نرسنگ کی ایما پر بعض نرسز کو رات کی ڈیوٹی سے استثنا دے کر انہیں تحفظ دینے جبکہ بات نہ ماننے والی نرسز کو محکمہ صحت کے لاہور میں اہلکاروں سے غیر اخلاقی کالز اور میسجز کروائے جاتے ہیں۔ جبکہ ڈیوٹی روسٹر کی مسلسل خلاف ورزی کرنے والی چارج نرسز کے خلاف ہسپتال انتظامیہ ایکشن لینے سے صاف کترانے لگی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چارج نرسز کے خلاف ضابطے کی کارروائی کے بجائے انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حیران کن طور پر مذکورہ نرسز کے خلاف شروع کی جانے والی انکوائری بھی کسی بیرونی دبا یا نامعلوم وجوہات کی بنا پر سرد خانے کی نذر ہو چکی ہے، جس کا تاحال کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ یہ نرسز ڈپٹی نرسنگ سپرنٹنڈنٹ کی مبینہ سرپرستی اور ایما پر گزشتہ 3 سے 4 سالوں سے ڈیوٹی روسٹر کو پسِ پشت ڈال کر مسلسل نائٹ ڈیوٹی سے استثنی حاصل کیے ہوئے ہیں، جبکہ دیگر عملہ سخت موسمی حالات اور دبا میں نائٹ شفٹ کرنے پر مجبور ہے۔ انہیں محکمہ صحت پنجاب کے بعض افراد سے فون اور میسجز کے ذریعے جنسی طور پر ہراسمنٹ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس امتیازی سلوک اور "وی آئی پی کلچر” کی وجہ سے ہسپتال کے دیگر نرسنگ سٹاف میں شدید غم و غصہ اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ہسپتال کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، لیکن یہاں اثر و رسوخ کی بنیاد پر مخصوص افراد کو نوازا جا رہا ہے جو کہ محکمہ صحت کے اعلی حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔


