لاہور (صورتِ حال، بیورو رپورٹ) لاہور ہائیکورٹ نے اہم قانونی اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نابالغ بچوں کے نان نفقہ کی ادائیگی کے لیے پنشنر والد کی پنشن بھی منسلک کی جاسکتی ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ بچوں کا نان نفقہ عام قرض کی نوعیت کا مالی دعویٰ نہیں بلکہ والد پر عائد قانونی اور خاندانی ذمہ داری ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک جاوید اقبال وینس اور جسٹس ملک وقار حیدر اعوان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے محمد لطیف کی آئینی درخواست مسترد کرتے ہوئے یہ فیصلہ جاری کیا جو آٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔
درخواست گزار نے فیملی کورٹ جڑانوالہ کے 17 ستمبر 2019 کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں پنشن اکاؤنٹ کی اٹیچمنٹ ختم کرنے کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فیملی کورٹ نے 22 جنوری 2014 کو والد کو دونوں بچوں کو فی کس ماہانہ تین ہزار روپے نان نفقہ اور جہیز کا سامان واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔
اپیلیں مسترد ہونے کے بعد ڈگری حتمی شکل اختیار کر گئی جس پر فیملی کورٹ نے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پنشن اکاؤنٹ کی رقم اٹیچ کرنے کی کارروائی شروع کی۔
درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پنشن ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت پنشن کو اٹیچمنٹ سے تحفظ حاصل ہے۔
تاہم عدالت نے قرار دیا کہ بچوں کا نان نفقہ والد کی لازمی قانونی ذمہ داری ہے اور پنشن ایکٹ کا سیکشن 11 ایسی ڈگری پر اس انداز میں لاگو نہیں ہوتا کہ عملدرآمد ناممکن ہو جائے۔


