سرینگر (انٹرنیشنل ڈیسک) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں علمائے دین اور سیاسی جماعتوں نے بی جے پی کے زیر کنٹرول وقف بورڈ کی جانب سے جمعہ کے خطبوں کو کنٹرول کرنے کی ہدایات کی مخالفت کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی اور نیشنل کانفرنس نے اس اقدام پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
آغا حسن نے مفتیوں، ائمہ اور خطیبوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کے اقدام کی مخالفت کی ہے جس کو جمعہ کے خطبوں کے لیے مشترکہ موضوعات مقرر کرنے کا اختیار دیا جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منبر ایک مقدس امانت ہے اور اہل علم کو نمازیوں کی رہنمائی کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کو اپنی توجہ انتظامی اور قانونی ذمہ داریوں تک محدود رکھنی چاہیے۔ ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر غلام رسول نے وقف بورڈ کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔
نیشنل کانفرنس کے ترجمان تنویر صادق نے بھی حکم نامہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔


