اے آئی کی تیار کردہ علامتی تصویر
بدین (صورتِ حال، ہیلتھ ڈیسک) راجوخانانی زہریلا دودھ پینے کے مبینہ واقعے میں گاؤں دیوو کولہی کے ایک خاندان کے 15 بچوں کی حالت خراب ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق بچوں کو الٹیاں اور بے ہوشی کے دورے پڑنے لگے۔
اطلاعات کے مطابق رام چند کولہی کے خاندان کے بچوں نے مبینہ طور پر بکری کا دودھ پیا تھا، جس کے بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ انہیں فوری طور پر راجوخانانی کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد مزید علاج کے لیے بدین بھیج دیا گیا۔
متاثرہ بچوں میں 10 سالہ سنیل، 8 سالہ ساگر، 6 سالہ نرمل، 5 سالہ مینلا، 3 سالہ رجنا، 5 سالہ امریتا، 4 سالہ بھاگوتی، 10 سالہ روشن، 13 سالہ گوند، 10 سالہ پرکاش، 8 سالہ دلیپ، 10 سالہ کرشنا اور 8 سالہ راجکماری سمیت دیگر شامل ہیں۔
اہل خانہ کے مطابق راجوخانانی کا سرکاری اسپتال بند ہونے اور ایمبولینس کی سہولت دستیاب نہ ہونے کے باعث بچوں کو کرائے کی سوزوکی گاڑیوں کے ذریعے بدین لے جایا گیا۔ شہریوں نے اسپتال کی بندش اور بنیادی طبی سہولتوں کی عدم دستیابی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے تحقیقات اور اسپتال کو فعال بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
راجوخانانی زہریلا دودھ کے مبینہ واقعے میں دودھ کے زہریلا ہونے کی حتمی تصدیق طبی معائنے اور متعلقہ حکام کی تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گی۔


