فائل فوٹو
فائل فوٹو
لاہور میں ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے کمرشل اور ہیوی گاڑیوں کے ڈرائیورز کا ہر سال میڈیکل بورڈ سے طبی معائنہ کروانے کی تجویز دی گئی ہے۔ سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے لائسنس کی تجدید کے لیے میڈیکل کے ساتھ ساتھ سی آر او ریکارڈ بھی لازمی کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
ٹریفک پولیس حکام کے مطابق ہیوی گاڑیوں کے ڈرائیورز کی کلر بلائنڈنس اور نفسیاتی کیفیت کی جانچ سالانہ بنیادوں پر کی جائے گی۔ ڈرائیورز کے بلڈ ٹیسٹ اور مکمل طبی معائنے کے بعد ہی میڈیکل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نیند کی کمی اور مختلف بیماریوں کے باعث ڈرائیونگ کے دوران ہوش و حواس متاثر ہوجاتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد حادثات کی روک تھام اور قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
لاہور میں رجسٹرڈ کل گاڑیوں کی چار فیصد کمرشل گاڑیاں جان لیوا حادثات میں چوالیس فیصد ملوث ہیں۔ ٹریفک پولیس کے مطابق ٹریکٹر ٹرالیاں مجموعی گاڑیوں کا صفر اعشاریہ سات فیصد ہیں لیکن حادثات میں ان کی شمولیت دس فیصد ریکارڈ ہوئی ہے۔
ٹرک اور ڈمپرز کل گاڑیوں کا صفر اعشاریہ چھ فیصد جبکہ حادثات میں گیارہ فیصد ملوث رہے ہیں۔ مزدا گاڑیاں مجموعی گاڑیوں کا صفر اعشاریہ آٹھ فیصد جبکہ حادثات میں آٹھ فیصد ملوث ریکارڈ کی گئیں۔
بسیں، کوسٹرز اور فلائنگ کوچز کل گاڑیوں کا صفر اعشاریہ سات فیصد جبکہ حادثات میں سات فیصد ملوث رہیں۔ پک اپ گاڑیاں کل گاڑیوں کا صفر اعشاریہ پانچ فیصد جبکہ حادثات میں چار فیصد ملوث پائی گئیں۔
ٹریلرز کل گاڑیوں کا صفر اعشاریہ دو فیصد جبکہ حادثات میں دو فیصد ملوث ریکارڈ کیے گئے۔ سی ٹی او لاہور کے مطابق حادثات کے تجزیے سے کمرشل اور ہیوی گاڑیوں کی غیر متناسب شمولیت سامنے آئی ہے۔


