نیویارک (صورتِ حال، بزنس ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ جغرافیائی و سیاسی تنازعات اور ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توجہ توانائی کی منتقلی سے بڑھ کر توانائی کے تحفظ کے فوری چیلنج کی جانب مرکوز ہو گئی ہے۔
وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر مختلف ملاقاتوں اور مکالموں میں گفتگو کر رہے تھے۔ وزیر خزانہ نے توانائی کے تحفظ، ایوی ایشن، صحت کے پروگرام پر عملدرآمد اور موسمیاتی مالیات کے امور پر بین الاقوامی شراکت داروں سے تبادلہ خیال کیا۔
عالمی اقتصادی فورم کے زیر اہتمام مکالمے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شمسی توانائی کے شعبے میں نمایاں توسیع ہوئی ہے، جس میں نجی شعبے نے بڑی حد تک کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کے تحفظ میں مشکلات کے وسیع معاشی اثرات ہوتے ہیں کیونکہ اس کا غذائی تحفظ اور مجموعی معاشی مضبوطی سے گہرا تعلق ہے۔
بوئنگ گلوبل کے صدر ڈاکٹر برینڈن نیلسن سے ملاقات میں پی آئی اے کے فضائی بیڑے کی جدیدکاری اور ایوی ایشن کے شعبے میں تعاون پر بات ہوئی۔ وزیر خزانہ نے بوئنگ کی جانب سے پی آئی اے کو نئے طیاروں کی خریداری کے لیے نظرثانی شدہ تجویز پیش کرنے کی تصدیق کا خیرمقدم کیا۔
ملاقات میں طیاروں کی جلد ترسیل، عبوری طور پر طیارے لیز پر لینے، امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی مالی معاونت، انجنوں، سپیئر پارٹس اور دیکھ بھال کے امور بھی زیر بحث آئے۔ وزیر خزانہ نے پی آئی اے کی نجکاری اور بڑے ہوائی اڈوں کے انتظام کو آؤٹ سورس کرنے کے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔
ایبٹ کے فارماسیوٹیکل ڈویژن کے نمائندے سے ملاقات میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے پروگرام اور ادویات کی قیمتوں پر گفتگو ہوئی۔ وزیر خزانہ کے مطابق تقریباً 30 لاکھ خریدے گئے تشخیصی ٹیسٹوں میں سے صرف ایک لاکھ کے قریب استعمال ہوئے ہیں، جس کی وجوہات میں قیادت میں تبدیلی، انتظامی کمزوریاں اور عوامی آگاہی کی محدود سطح شامل ہیں۔
انہوں نے ادویات کی قابلِ استطاعت قیمتوں، تجارتی پائیداری اور فراہمی کے تسلسل میں توازن کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ عملدرآمد کے مسائل متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائے جائیں گے۔
کلائمیٹ فنانس پر اقوام متحدہ کے سلوشنز ڈائیلاگ میں سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کا آغاز ملکی معاشی استحکام اور مناسب مالیاتی و بیرونی گنجائش سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معاونت قومی وسائل کی تکمیل کرے۔
انہوں نے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال بنانے میں سست پیش رفت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے گرین کلائمیٹ فنڈ سمیت عالمی اداروں سے منظوری، ایکریڈیٹیشن اور فنڈز کی فراہمی کے طریقہ کار آسان بنانے کا مطالبہ کیا۔


