اسلام آباد (صورتِ حال، نیوز ڈیسک) پاکستان کی نیو انرجی وہیکلز پالیسی 2025–30 میں سال 2030 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں نیو انرجی گاڑیوں، یعنی NEVs، کا حصہ 30 فیصد کرنے کا ہدف مقرر ہے۔ وزارتِ صنعت و پیداوار کی حتمی پالیسی کے مطابق یہ ہدف موٹر سائیکلوں، رکشوں، کاروں، بسوں اور دیگر متعلقہ گاڑیوں کی نئی فروخت کے لیے ہے۔
یہ نئی فروخت کا ہدف ہے، پورے موجودہ بیڑے کا حصہ یا حاصل شدہ نتیجہ نہیں۔
پالیسی نئی نہیں، ہدف پہلے سے موجود ہے
19 جون 2025 کے سرکاری اعلان میں بھی نئی فروخت میں 30 فیصد برقی گاڑیوں کا ہدف بتایا گیا تھا۔ اس موقع پر وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے پالیسی متعارف کرائی تھی۔ اس لیے اسے 26 اکتوبر 2026 کو پہلی بار کیے گئے حکومتی اعلان کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔
26 اکتوبر کی اے پی پی رپورٹ، بذریعہ اردو پوائنٹ میں محمد شہباز اقبال کا حوالہ توانائی اور مالیات کے تجزیہ کار کے طور پر دیا گیا ہے۔ ان کے تجزیے کو کسی حکومتی عہدیدار کا نیا پالیسی اعلان نہیں سمجھنا چاہیے۔
کن گاڑیوں اور سہولتوں کا احاطہ ہے؟
پالیسی بیٹری برقی، پلگ اِن ہائبرڈ، رینج ایکسٹینڈڈ اور فیول سیل ٹیکنالوجی کا احاطہ کرتی ہے۔ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے مکمل بیٹری برقی ہونا ضروری ہے؛ دیگر اقسام کی اہلیت کے لیے بھی شرائط مقرر ہیں۔
پالیسی میں 2030 تک 3,000 چارجنگ اسٹیشن کا منصوبہ بھی ہے؛ یہ موجودہ تعداد نہیں۔
تصحیح: خبر کے سابقہ متن میں محمد شہباز اقبال کو حکومتی عہدیدار کہا گیا تھا۔ اے پی پی کے مطابق ان کی حیثیت تجزیہ کار کی ہے؛ یہ نسبت درست کر دی گئی ہے۔


