(صورتِ حال، انٹرنیشنل ڈیسک) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ طاقت سے قوم کو جھکایا نہیں جا سکتا اور ایرانی عوام اپنے وطن کے لیے مضبوطی سے ڈٹی رہے گی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مسعود پزشکیان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایرانی عوام کی شکایات، پیش آنے والے جرائم اور پیدا ہونے والے عدم اعتماد کا معاملہ اٹھائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کئی مرتبہ مذاکرات کی میز پر گیا اور معاہدوں پر دستخط کیے، تاہم ان کے بقول وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری نہیں کی گئی۔
ایرانی صدر نے کہا کہ غزہ، فلسطین، شام، یمن، ایران اور دیگر مقامات پر ہونے والے واقعات ان حقائق کی عکاسی کرتے ہیں جن کا دنیا بھر کے لوگ مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دشمن ایرانی عوام کو سرِ تسلیم خم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے مختلف راستے اختیار کر رہے ہیں۔
مسعود پزشکیان نے الزام عائد کیا کہ دشمن زمینی اور فضائی راستے بند کرنے، اندرونی اختلافات کو ہوا دینے، میڈیا اور نسلی گروہوں کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ہتھیاروں سے کیے گئے جرائم کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی قرار دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنے موقف کا مضبوطی سے دفاع کیا ہے اور تمام تر ناانصافی اور مظالم کے باوجود ایرانی قوم باوقار انداز میں کھڑی رہی ہے۔ ان کے بقول ایرانی عوام اپنے وطن کے لیے مرتے دم تک اسی طرح ڈٹی رہے گی۔


